ممبئی،17؍ دسمبر (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) مالیگاؤں ۲۰۰۸ بم دھماکہ معاملے میں آ ج بھگواء ملزمین کو اس وقت شدید ہزیمت اٹھانی پڑی جب خصوصی این آئی اے جج نے دفاعی وکلاء کی غیر موجودگی کی وجہ سے سرکاری گواہ کی گواہی نا مکمل ہونے کے باوجود اسے فارغ کردیا اور اپنے ریکارڈ میں درج کیا کہ متعدد مرتبہ تنبیہ کرنے کے باوجود دفاعی وکلاء عدالت سے غیر حاضر ہیں اور بجائے عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کے عدالت سے وقت طلب کررہے ہیں جو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکمناموں کی خلاف ورزی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق آج مالیگاؤں کے علی اکبر اسپتال کے سبکدوش میڈیکل آفسیر سعید انصاری کی گواہی عمل میں آئی جس کے دوران انہوں نے سرکاری وکیل اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے خصوصی جج ونوڈ پڈالکر کو بتایا کہ بم دھماکوں کی وجہ سے زخمی ہونے والے ۹؍ افراد کا انہوں نے علاج کیا تھا اور اس کے بعد میڈیکل رپورٹ بھی مرتب کی تھی ۔ سرکاری گواہ نے زخمیوں کو ہونے والے زخموں کے بار ے میں تفصیل سے بتایا جسے عدالت نے اپنے ریکارڈ پر درج کیا۔
سرکاری گواہ ڈاکٹر سعید انصاری سے چیف ایگزامینشن (سوالات پوچھنے) کے ملزم سوامی کے وکیل سامبڑے کو کراس ایگزامینشن (جرح) کرنی تھی لیکن سامبڑے وکیل کے جونیئر ایڈوکیٹ جیسوال نے عدالت سے گواہ سے جرح کرنے کے لئے وقت طلب کیا اور وجہ یہ بتائی کہ سینئر وکیل سامبڑے ابھی تک پونے سے ممبئی نہیں پہنچے ہیں لہذا انہیں وقت دیا جائے جس پر عدالت نے پہلے تو دس منٹ کا وقت دیا اور دس منٹ کے بعد بھی جب سامبڑے وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوئے تو خصوصی جج نے ڈاکٹر سعید انصاری کو فارغ کردیا ۔حالانکہ سرکاری گواہ کو فارغ کرنے پر ایڈوکیٹ جیسوال نے عدالت سے بہت منت سماجت کہ انہیں آخری مرتبہ وقت دیا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے روز بہ روز مقدمہ کی سماعت کئے جانے کے احکامات موصول ہوئے ہیں نیز اس معاملے میں متاثرین کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم (جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل)مقدمہ کی سماعت کے دن عدالتی کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی کمرہ عدالت پہنچ جاتے ہیں اور دوران مقدمہ باریک بینی سے عدالتی کام کاج نوٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر بھی دباؤ رہتا ہے۔خصوصی جج نے مزید کہا کہ مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملہ مختلف نوعیت کا مقدمہ ہے اور اس مقدمہ پر عوام و خواص کی نظر رہتی ہے نیز انہیں خود ممبئی ہائی کورٹ میں روزانہ کی عدالتی کارروائی کی روداد ارسال کرنا پڑتا ہے نیز اوربھی کئی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے وہ مقدمہ کی سماعت کسی بھی قیمت پر دھیرے نہیں کرسکتے۔
عیاں رہے کہ اس سے قبل بھی عدالت نے بھگوا ملزم سوامی کے وکیل کی عدالت سے غیر حاضری پر ۲۵؍ سو روپیہ کاجرمانہ عائد کیا تھا ۔آج کی عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔